Qaraba al-Nabi ﷺ للنجاۃ من الضلال والفتن:
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے دورِ جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام و خواص دونوں کی علمی و فکری رہنمائی اور عقیدہ و عمل کی پختگی کے لیے احادیث مبارکہ سے خوب استفادہ کیا اور 100 کے قریب چھوٹے بڑے مجموعہ ہائے احادیث مرتب کیے۔ زیرِ نظر اربعین: ’آخرت میں اللہ تعالیٰ کا انبیاء اور اولیاء و صالحین سے کلام کرنا‘ ہے، اس میں بروزِ حشر انبیاء و صلحاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کے موضوع پر 41 احادیث جمع کی گئی ہیں۔
اپنے رب سے ڈرو، اپنے والدین سے حسنِ سلوک کرو اور صلہ رحمی کرو، تمہاری عمر دراز ہوگی، تمہیں آسانیاں نصیب ہوں گی، تم تنگی و پریشانی سے محفوظ رہو گے اور تمہارے رزق میں بھی اضافہ کر دیا جائے گا۔
The recent environmental studies have graded Lahore as the most polluted city of the world
🔹 حضور ﷺ کی رنگت مبارک
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا شمار عصر حاضر کے اُن جلیل القدر محدّثین میں ہوتا ہے جنہوں نے دورِ جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام و خواص دونوں کی علمی و فکری رہنمائی اور عقیدہ و عمل کی پختگی کے لیے اَسلاف کی روایات کے مطابق جہاں المنہاج السوی، ہدایۃ الاُمۃ اور جامع السنۃ جیسے نہایت مستند اور ضخیم مجموعہ ہائے اَحادیث مرتب فرمائے، وہیں تبلیغ و اِشاعتِ حدیث کی فضیلت اور اس سے حاصل ہونے والے دُنیوی و اُخروی فیوض و برکات سمیٹنے کے لیے بصورتِ اَربعین مختصر مجموعہ ہائے اَحادیث مرتب کرنے کی علمی روایت کو بھی آگے بڑھایا تاکہ وسائل و ذرائع کی کمی اور قلتِ وقت کے شکار لوگ فرموداتِ رسول ﷺ سے مستنیر ہوسکیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تاریخی کاوش دہشت گردی اور فتنہ خوارج کے خلاف مبسوط تاریخی فتویٰ ہے۔ یہ وہ آفاقی کارنامہ ہے جسے تاریخِ اسلام میں ہمیشہ آبِ زر سے لکھا جائے گا۔ بحمد اﷲ تعالیٰ اب تک یہ فتویٰ اُردو، انگریزی، نارویجن، فرانسیسی، ہندی اور انڈونیشیائی زبانوں میں زیورِ اشاعت سے آراستہ ہو چکا ہے۔ حال ہی میں اس کا عربی ترجمہ کویت کے معروف پبلشر دار الضیاء جیسے موقر ادارے سے شائع ہوا ہے۔ اس ترجمہ میں مسلم دنیا کی قدیم ترین یونی ورسٹی جامعۃ الازہر کے تحقیقی ادارے مجمع البحوث الاسلامیۃ کی جانب سے ایک مفصل تقریظ بھی شامل کی گئی ہے جس میں اس تاریخی فتویٰ کے مشتملات سے کلی اتفاق کرتے ہوئے حضور شیخ الاسلام کی کاوشوں کو سراہا اور ان کی بھر پور تائید کی گئی ہے۔
اِس کتاب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے فقط اِس ایک حدیث مبارک کی مختلف اسانید و طُرُق، رُواۃ اور صحت پر تفصیلی بحث کی ہے، جن سے سیدنا علی علیہ السلام کی وُسعتِ علمی اور حکمت و معرفت کے بحرِ بیکراں کا اِدراک ہوتا ہے۔
ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی، جو ایمان لانے میں ہم سے آگے بڑھ گئے۔‘‘ (الحشر، 59 : 10)
🔹 باب 5 : حکومت نااہل لوگوں کے سپرد کی جائے گی اور حکمران اور مقتدر لوگ منافق ہوں گے
حضرات حسنین کریمین علیہما السلام کی ذات مبارکہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ وہ شہزادے ہیں جنہیں پہلی غذا کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مبارک لعابِ دہن نصیب ہوا۔ یہ وہ مبارک نام ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ رب العزت کی جانب سے منتخب کیا اور جو ان سے پہلے اس کائنات میں کسی کے نہیں رکھے گئے تھے۔ یہ وہ معزز سوار ہیں جنہیں راکبِ دوشِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کے لیے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سجدے طویل کیے۔ جب رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک کے اَہلِ حق کو ان کی عظمت، فضیلت اور رتبہ کی انتہا دکھانا چاہی تو ارشاد فرما دیا: {الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَہْلِ الْجَنَّۃ} یعنی حسن اور حسین تمام جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی یہ عظیم کتاب دراصل ناروے میں منعقد ہونے والے سہ روزہ تربیتی و اِصلاحی کیمپ - الہدایہ یورپ 2017ء - میں ہونے والے دروس کا مرتبہ مجموعہ ہے۔ اس کتاب شیخ الاسلام نے حیاتِ قلبی کے مختلف دقیق نکات پر انتہائی آسان انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ حیاتِ قلبی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کہ حیاتِ قلبی سے کیا مراد ہے؟ زندہ اور مردہ دل میں کیا فرق ہے؟ حضورِیِ قلب کیا ہے؟ حضورِیِ قلب کیسے نصیب ہوتی ہے؟ صاحبانِ حضورِیِ قلب کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ زندہ قلوب کیسے موت کا شکار ہوتے ہیں؟ وغیرہ کے جوابات انتہائی سہل اور آسان فہم انداز سے تحریر کیے گئے ہیں۔ کتاب کے آخر میں مردہ قلوب کی علامات اور قلوب کو مردہ ہونے سے بچانے کی حفاظتی تدابیر کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔
تفسیرِ تسمیہ