شیطان اور لڑکی | پاؤلو کوئیلہو George Orwell: : :
اجیت سندر کے ناول "کتوں کی فریاد" کا موضوع انتہائی اچھوتا اور حیران کُن ہے، لیکن مصنف نے اس ناول میں کتوں کی تذلیل کو موضوع بنایا ہے، ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر کتوں پر تشدد کیا جاتا ہے، راہ گیر بھی ان کو پتھر مار کر اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے، کبھی اس کو منحوس ، نجس اور بد بخت تصور کیا جاتا ہے، اس تمام عمل اور جبر کے خلاف کتوں نے عدالتِ عظمیٰ میں شکایت یا عرضی درج کرواتے ہیں کہ انسانوں کی طرف سے ہمارے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے، گالم گلوچ ہماری نسل سے دی جاتی ہے ، ہمیں انتہائی حقیر اور کم تر سمجھا جاتا ہے اس لیے ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے
زیر نظر کتاب کے پہلے حصے میں موت کے مختلف تصورات اور نظریات کا مختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرے حصہ نفسیاتی تحقیقات اور بحثوں پر مشتمل ہے۔ تیسرے حصے میں ادب اور آرٹ میں موت کی تصویر کشی پر مختصر مضامین شامل ہیں، جبکہ چوتھا حصہ ایک سائنس دان کی موت کے مراحل کی خود نوشتہ کہانی اور موت کے متعلق اہم لوگوں کی آراء پر مبنی ہے۔
ISBN 978-969-652-116-7 No
of Pages 104 Format Hardbound Publishing Date 2017 Language Urd
تاہم، نشریات کے ایک دن قبل مجھے فون آیا ۔آپ کی باتیں ہمارے سامعین کے لیے نامناسب ہیں۔
تحقیق کے فن سے دلچسپی رکھنے والوں خصوصاً جامعاتی طلبا کے لیے اس کا مطالعہ بہت ضروری ، کم سے کم صفحات میں اتنا جامع مواد شاید ہی کسی دوسری کتاب میں موجود ہو۔ یہ کتاب اردو تحقیق کے ضمن میں نہ صرف اولین کتابوں میں شمار ہوتی ہے بلکہ اب تک سامنے آنے والے مواد میں بھی اپنے معیار کے حوالے سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔۔۔
of Pages 136 Format Hardcover Publishing Date 2016 Language Urdu تیجا سنگھ، راولپنڈی کے مشہور گاﺅں اڈیالہ میں 2جون 1894ءکو ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے نہایت کم عمری میں ہندومت چھوڑ کر سکھ مذہب اختیار کرلیا۔ اُن کی زندگی بھرپور جدوجہد سے لبریز ہے۔ تیجاسنگھ نے انتہائی مشکل حالات میں بھی سکول کی تعلیم جاری رکھی۔ اپنی تعلیمی اورعملی زندگی کے سفر میں راولپنڈی اور سرگودھا سمیت متعدد شہروں میں وقت گزارا۔ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے انہوں نے علاقے کے دیہات میں ستار بجانے کو آمدن کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے راولپنڈی کے معروفِ زمانہ کالج گورڈن کالج سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اُن کو فارسی، اردو، سنسکرت اور انگریزی زبانوں پر بھرپور عبور حاصل تھا۔ متعدد تصانیف اور درس وتدریس کے علاوہ انہوں نے انسانی حقوق کی جدوجہد میں بھی اپنا حصہ ڈالا اور سکھوں کے حقوق کے حوالے سے بھی شناخت حاصل کی۔ زیرنظر کتاب اُن کی مختصر مگر بڑی دلچسپ سوانح عمری ہے۔ ایک ایسے شخص کی کہانی جس نے جنم، جوانی اور عملی زندگی کا آغاز غیرمنقسم پنجاب میں کیا۔ یہ کتاب اس لیے بھی دلچسپ ہے کہ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس دَور کا پنجاب کیسا تھا۔ ایک ایسے پنجاب کی کہانی جہاں صرف مسلمان پنجابی ہی نہیں بلکہ سکھ اور ہندو پنجابی بھی آباد تھے۔ تقسیمِ پنجاب سے پہلے اور کچھ سال بعد کی ایک پنجابی کی سرگزشت۔
خلاف دشمناں
انسان کو زندگی کے جرم میں موسيقی رنگ خوشبو فن و ادب کی ہر صنف سے محروم کرنے کا سزا وار ٹھہرا دیا گیا
اس کتاب میں فاضل لکھاری نے جہاں پنجاب کے عظیم ہیرو، پنجاب کی تحریکوں کا ذکر کیا ہے ، وہیں سب سے اہم سوال : کیا پنجاب بیرونی حملہ آوروں کا استقبال کرتا رہا ہے؟ کا جواب دے کر اس دھرتی پر آنکھ کھولنے کا حق ادا کردیا ہے ۔
یہ سچ ہے کہ اردو کے قاری عموماً دیگر زبانوں کا ادب کم ہی پڑھتے ہیں ۔ جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ادب کسی بھی زبان میں لکھا جائے ، اور کہیں بھی لکھا جائے ، یہ وقت اور سرحدوں کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔
Book Name: Hidayat Afghani Tareekh e Kakazai Tarkani